مئی 21, 2022

تازه ترین

شہری نقصانات کے متعلق یوناما کی رپورٹ ایک بار پھر جانبدار اور جھوٹی ہے

شہری نقصانات کے متعلق یوناما کی رپورٹ ایک بار پھر جانبدار اور جھوٹی ہے

کابل میں اقوام متحدہ کے سیاسی نمائندگی یوناما نے شہری نقصانات کے متعلق ایک بار پھر ششماہی رپورٹ شائع کی۔
اس رپورٹ میں شہری نقصانات کے 40 فیصد تک ذمہ داری امارت اسلامیہ کے مجاہدین کو منسوب کی گئی، جبکہ کابل انتظامیہ اور امریکہ اور تقریبا برائت دی گئی ہے۔
امارت اسلامیہ اس رپورٹ کو مسترد کرتی ہے، گذشتہ چھ ماہ میں کسی جگہ بھی جان بوجھ کر امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی جانب سے شہری تلف ہوئے اور نہ ہی ایسے حملے کیے گئے ہیں،جن سے عام شہریوں کے نقصانات کا امکان ہو۔
اس کے برعکس کابل انتظامیہ کی جانب سے مسکونہ علاقوں پر بڑے پیمانے پر بے ہدف فضائی و میزائل حملوں اور چھاپوں میں مطلق عام شہری نشانہ بنے ہیں۔ سینکڑوں مکانات، بازار اور عوامی عمارتیں منہدم ہوئیں۔ بوڑھوں، بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں شہری شہید و زخمی ہوئے۔
البتہ بعض جنگی علاقوں میں ماضی میں بچھائے جانے والے بموں کی وجہ سے ممکن چند محدود شہری نقصان سامنے آئے ہو، جو کوئی قصدی عمل نہیں ہے، بلکہ ایک اتفاقی اور غیراختیاری واقعہ ہے۔
اس کے علاوہ کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا ہو، کسی مکان کو تباہ کیا ہو اور کسی دوسرے عوامی چیز کو نقصان پہنچایا ہو۔
اسی طرح دشمن کے اینٹلی جنس پروپیگنڈے کی وجہ سے بعض علاقوں میں عام شہریوں کو نقصان پہنچانے کی جھوٹی خبریں شائع ہوئیں۔ مثال کے طور پر قندہار کے سپین بولدک اور غزنی کے مالستان میں، جس کا کوئی حقیقت نہیں ہے اور صرف عام افراد کے ذہنوں کو تشویش میں مبتلا کرنے کی غرض سے ایک افواہ اور سازش تھی۔
ہم یوناما کو بتلاتے ہیں کہ شہری نقصانات کے مقدمہ کو پروپیگنڈے سے نکالنا چاہیے اور اسے حقیقی طور پر ایک انسانی مقدمہ کی نظر سے دیکھ لے، اپنی معلومات کو دشمن کے اینٹلی جنس اور پروپیگنڈہ آمیز ذرائع سے مکمل نہ کریں، بلکہ کچھ تکلیف برداشت کریں، واقعات کی تحقیقات کےلیے قریبی اور غیرجانبدار ذرائع سے نفع اٹھائے، تاکہ حقیقی طور پر شہری نقصانات کی روک تھام ہوجائے ۔ شہری نقصانات کے اصل مجرم اور جرائم پیشہ افراد کو چھوٹ نہ دی جائے۔
ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ
۱۶ ذی الحجۃ ۱۴۴۲ ھ ق
۰۴ اسد ۱۴۰۰ ھ ش
۲۶ جولائی ۲۰۲۱ ء

Related posts